جنگ حوثیوں کے حق میں اختتام پذیر ہوگی - 5
کد: 174458 تاریخ: 1388/12/25منبع: print

جنگ حوثیوں کے حق میں اختتام پذیر ہوگی - 5

موصولہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن نے شیعیان یمن کے خلاف سعودیوں کی مدد کے لئے اپنے سپیشل گارڈز کے دستے روانہ کردیئے ہیں جو سعودی افواج کے دوش بدوش لڑرہے ہیں؛ یمنی مداخلت کا پس منظر کیا ہے اور حال اور مستقبل میں اردن کی مداخلت کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟

اس جنگ میں مداخلت سے اردن کا مفاد کیا ہے؟

موصولہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن نے شیعیان یمن کے خلاف سعودیوں کی مدد کے لئے اپنے سپیشل گارڈز کے دستے روانہ کردیئے ہیں جو سعودی افواج کے دوش بدوش لڑرہے ہیں؛ یمنی مداخلت کا پس منظر کیا ہے اور حال اور مستقبل میں اردن کی مداخلت کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ یمن میں اردن کی فوجی مداخلت کے آشکار اور نہاں پہلو کیا ہوسکتے ہیں؟

یمن میں اردنی فوجی موجودگی کی تفصیلات:

اردنی افواج کے اسپیشل گارڈز کے خصوصی دستے ابتدائی مرحلے میں تبوک میں واقع سعودی فوجی اڈے میں داخل ہوئے۔

یہ دستے ابتدائی کوائف پورے کرنے کے بعد ہوائی راستے سے جبل الدخان کے علاقے میں پہنچادیئے گئے جہاں سے سعودی عرب نے اہل تشیع کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کیا تھا۔

- سعودی فوجیوں کے ہمراہ اردنی فوجیوں کی مداخلت پہلے مرحلے میں یمنی فوجی افسروں کے درمیان شدید اختلافات کا باعث بنی۔ اور ان کمانڈروں نے وسیع بیرونی مداخلت اور بیرونی قوتوں کے ذریعے یمنی شہریوں کے قتل عام کے حوالے سے اپنی تشویش کا باقاعدہ اظہار کیا ہے۔ سعودیوں کے ساتھ اردنیوں کی مداخلت دوسری طرف سے یمنی عوام کی طرف سے بھی وسیع احتجاج کا سبب بنی ہوئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق "جلی زمین" نامی آپریشن کے سلسلے میں صعدہ روانہ کئے جانے والے یمنی فوجی دستے بھی کارآمد نہیں رہے اور ان کا کردار صعدہ کے علاقے میں "غیر جانبدار فوجی قوت" کی سی ہوگئی ہے اور اس امر کی اصلی وجہ سعودی اور اردنی مداخلت بتائی جارہی ہے۔

یمن میں سیکورٹی اجلاس؛ نقطۂ آغاز

اردن نے نہایت تیزی سے غیرمعمولی انداز سے اپنے دستے سعودی عرب روانہ کئے اور یہ ایک سیاسی عمل ہے جس میں اردن نے صنعاء اور ریاض سے اپنی یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے یمن کے شمال اور سعودی عرب کے جنوب میں استحکام قائم کرنے کی غرض سے ان دوملکوں کی مدد کی ہے لیکن یہ ایک ظاہری توجیہ ہے۔

ان ظاہری توجیہات کے بر عکس، اردن کا فوجی اقدام امّان میں حالیہ سلامتی اجلاس کے دائرے میں سفارتی ـ سلامتی اقدام تھا جس کو بظاہر علاقائی اجلاس کا نام دیا گیا مگر اس میں مصر، سعودی عرب اور اردن کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی جاسوسی اداروں کے سربراہوں نے حصہ لیا۔ اس اجلاس میں تین عرب ممالک کو "اعتدال پسند عرب ممالک" کے عنوان سے شریک کیا گیا تھا۔

اردن میں ہونے والے "علاقائی" سلامتی کے اجلاس میں شریک افراد:

* اردنی میجر جنرل محمد الراقد

* صہیونی جاسوسی اداری موساد کا سربراہ مائیر داگان۔

* امان میں مقیم اسرائیلی ملٹری اینٹیلجنس کا سربراہ عاموس یادلین۔

* مصری جاسوسی ایجنسی کا سربراہ میجر جنرل عمر سلیمان۔

* امریکی مرکزی اینٹیلجنس ایجنسی (CIA) کے نمائندگان

* امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے مندوبین

* سعودی مندوب کا نام معلوم نہیں ہوسکا

 نہاد علاقائی اجلاس میں امریکییوں اور اسرائیلیوں کی تعداد دیگر ممالک کے نمائندوں سے کہیں زیادہ تھی۔

اجلاس کے بعد مصری عمر سلیمان عجلت میں ریاض کے دورے پر نکلا اور اپنے سعودی ہم منصب امیر مقرن بن سلطان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس کو امان کے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ فریقین نے بیشتر مفاہمتوں کی غرض سے مختلف تجاویز پر بھی غور و خوض کیا۔ البتہ یہ بات عجیب ہے کہ سعودی مندوبین بھی اجلاس میں شریک تھے مگر مصری مندوب کو رپورٹ دینے کے لئے ریاض کا دورہ کرنا پڑا جو باعث حیرت ہے۔

پینٹاگان اور سی آئی اے کے نمائندے اجلاس کے بعد داگان کے ہمراہ مقبوضہ فلسطین چلے گئے جہاں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے بھی آپس میں صلاح مشورے کئے۔

امان کے اجلاس اور ریاض میں عمرسلیمان اور امیرمقرن کی ملاقات کے بعد اردنی فوجی دستوں کو سعودی عرب روانہ کیا گیا۔ اور یہ دستے تبوک میں واقع سعودی فوجی چھاؤنی میں اترے۔

امان کے اجلاس کے بعد امریکی نمائندوں نے نیتانیاہو ـ اوبا ملاقات کے علاوہ صہیونی وزیر جنگ ایہود بارک ـ رابرٹ گیٹس ملاقات اور صہیونی چیف آف اسٹاف گابی اشکنازی ـ مایکل مولن ملاقات کی منصوبہ بندی کی۔

 امان اجلاس کا پورا مقصد یا اس کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یمن کے شمالی علاقوں میں شریک ملکوں کی مداخلت سے عبارت تھا۔

 * امان کے سلامتی اجلاس کے خفیہ پہلو: خفیہ جنگ اور صعدہ میں قتل عام

اجلاس میں شرکت کرنے والے فریقوں کی کوشش ہے کہ وسیع نفسیاتی جنگ کے ذریعے یمن کی جنگ کو یمنی ـ سعودی استحکام کی تباہی کی سازش قرار دیا جائے اور اس کی ذمہ داری ایران پر ڈال دی جائے۔

شمال مغرب میں حوثیوں کی تحریک کو جنوبی علیحدگی پسند تحریکوں سمیت القاعدہ سے جوڑ دیا جائے۔

دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کے دائرے میں امریکہ کے نزدیک "اعتدال پسند اسلامی ممالک" (یعنی مصر، سعودی عرب اور اردن) (1) اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان تعاون پر زوردیا جارہا ہے اور اسرائیل نے بھی موقع سے فائدہ اتھا کر "سعودی عرب اور یمن" کو ایران کی نفوذ سے بچانی کی نعری لگانی شروع کیئی ہیں۔ اور کیا عجب ہے کہ عرب دنیا کی ایک ملک اور مسلمانوں کی قبلہ اول پر قابض ریاست کو "سعودی عرب اور مکہ و مدینہ کی مقدس مقامات" سمیت اسلامی ملک یمن کی حفاظت کی فکر لاحق ہے!!!

ان امور کی آپس کی تعلق کا ادراک کرکے شیعیان یمن کے خلاف سعودی جارحیت میں اردن کی مداخلت کی اسباب کا ادراک بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

سوالات:

 - ان جنگوں میں فضائیہ سے وسیع استفادہ کیا گیا ہے اور شیعہ علاقوں پر بمباری میں خاص طور امریکی ساخت کے جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر ـ جیسے ایف 14، ایف 15 اور ایف 16 طیارے آپاچی ہیلی کاپٹر استعمال کئے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان ہوائی جہازوں کے ہواباز کون تھے؟ مصری یا سعودی تھے یا وہ بھی امریکی ہی تھے؟ ایف 14، ایف 15 اور ایف 16 طیاروں کے لئے معلومات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ معلومات صرف جاسوسی سیارچوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکی سیارچوں سے موصولہ معلومات مصری یا سعودی ہوابازوں کے سپرد کی جاسکتی ہیں؟ کیا یہ معلومات امریکی سیارچوں سے بھیجی جارہی ہیں یا یہ کہ اسرائیل کے جدید ترین جاسوسی سیارچے "افیراکس" یمنی عوام کے قتل عام کے لئے اطلاعات فراہم کررہے ہیں؟

- کیا صعدہ کے ساتھ ساتھ کہیں اور بھی فوجی کاروائیاں ہوئی ہیں؟ خلیج عدن اور آبنائے باب المندب کے علاقوں میں امریکی افواج کی بحری یونٹیں مصروف عمل رہی ہیں اور انھوں نے ان علاقوں خاص طور پر خلیج عدن اور صعدہ کے بالمقابل بحر احمر میں سعودیوں اور یمنیوں کو مختلف قسم کی مدد فراہم کی ہے۔ ان علاقوں میں سعودیوں اور یمنیوں کو امداد فراہم کرنے سے امریکیوں کا مقصد کیا ہے؟

ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے سے بہت سے مبہم نکات واضح ہونگے۔ اور مسائل کا تجزیہ کرکے واضح ہوتا ہے کہ شمالی یا جنوبی یمن میں امن کا قیام مقصد نہیں ہے بلکہ اس بہانے سے واشنگٹن کی قیادت میں ایک نئے اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں شیعیان یمن کو مصالحت کے لئے ضروری مواد کے عنوان سے استعمال کیا گیا ہے اور انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ اور اس وقت امریکہ، اسرائیل، مصر، اردن اور سعودی عرب کے تعاون کی بنیاد رکھی جارہی ہے اور اس میں حتی یمن اور یمن کے عوام تک قربان کئے جارہے ہیں۔ یہ ایک فوجی ـ سیاسی اتحاد ہے اور اس اتحاد میں امریکہ کا نائب اسرائیل ہے؛ امریکہ دور کا مہمان کھلاڑی ہے اور اسرائیل کو اس ٹیم کا کپتان بنایا جارہا ہے اور یہ وہی خواب ہے جو امریکہ نے "عظیم تر مشرق وسطی" کے قیام کے لئے عراق پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل اس اتحاد سے خطے میں مزید مداخلتوں کے لئے استفادہ کریں گے؟ اگر ہاں تو نئی مداخلت کے لئے کس اسلامی ملک کا انتخاب کیا گیا ہے؟ عراق؟ جنوبی لبنان؟ غزہ کی پٹی یا صومالیہ؟ اور ہاں!

اور ہاں! عرب سربراہان اپنی ملتوں کی آنکھوں سے دور کس سمت میں چل پڑے ہیں؟ کیا ان کی یہ حرکت سقوط و زوال کا سفر نہیں ہے؟

---

1۔ مصر، سعودی عرب اور اردن غزہ کے عوام کے خلاف صہیونی انتہا پسندی کا ساتھ دیتے ہیں اور اسلامی ممالک میں مسلم کشی کی لہروں کا آغاز سعودی مفتیوں کے فتؤوں اور سعودی عرب میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی تربیت و پرورش کا نتیجہ ہے اور عراق سات سال تک جلا، افغانستان 30 برسوں سے جل رہا ہے اور پاکستان بھی 1985 سے جل رہا ہے اور ان اسلامی ممالک میں انسانیت سوز آگ کی پہلی چنگاری وہابیت کے گھر یعنی سعودی عرب سے اٹھی ہے یعنی یہ کہ سعودی عرب اسلامی دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا منبع و منشأ ہے مگر امریکہ سعودی عرب سمیت اردن اور مصر کو اعتدال پسند اسلامی ممالک کا نام دے رہا ہے کیا یہ ایک سوالیہ نشان نہیں ہے؟ سعودی عرب اسلامی دنیا کے لئے دہشت گردی کا منبع اور اسلام دشمن امریکہ اور اسرائیل کے نزدیک اعتدال پسند ملک؟ اس بات کا مفہوم کیا ہوسکتا ہے؟ مجھے بھی اور آپ کو بھی بہر صورت سوچنا پڑے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہاں ایک قرآنی آیت کا حوالہ دینا ضروری ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دوستوں کے اوصاف بیان ہوئے ہیں ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ عرب ممالک ـ بالخصوص سعودی عرب اس آیت کے مصادیق ہیں یا نہیں؟

ارشاد باری تعالی ہے:

«محمدٌ رسول الله والذین معه اشدّاءُ علی الکفار و رحماءُ بینهم»

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ (ص) کے ساتھ ہیں کفار پر بہت سخت ہیں اور آپس میں بہت مہربان.

اب اگر کوئی مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہاتا ہو اور کفار پر شفیق اور مہربان ہو وہ کیا اس آیت میں رسول اللہ (ص) کے ساتھیوں کے زمرے میں آسکتا ہے؟

@یہ تجزیہ فارس نیوز ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا اور اس کی ترتیب و تدوین، اضافات اور تلخیص سمیت اردو ترجمے کا کام ف۔ح۔مہدوی نے انجام دیا۔ امید ہے مفید واقع ہو۔@



Share :  Del.icio.us  Digg  Facebook  Newsvine  Reddit  Technorati




ایمیل:
نام:
پیام:
Englishالعربية
Françaisاردو
Españolفارسی
Русский中文
DeutschTürkçe
Indonesia Azeri (ltin)
বাংলা Azeri (cyr)
 آخرین عناوین

- فیلمنامه ابوطالب (ع) منتشر شد

- امامزاده‏های ایران(6) ؛ امامزاده سه تن در ساری

- آمریکا به دنبال بمب هسته‏ای در ایران و سوریه

- جشن اهل بیت(ع) با رقاصی سازگاری ندارد

- اینکه برخی افراد به دلیل زهد، ورع و تقوا از قضاوت دوری می‏کنند اشتباه است

- اقدام قابل تحسین دادگاه اسکاتلندی در محکومیت مرد نژادپرست

- شهادت دو نفر در پاکستان بر اثر انفجار مین!

- حضور 6 ميليوني زائران اباعبدالله(ع) در نيمه شعبان

- ابراز شگفتي نماينده كويت از عزم زائران كربلا

- آزادي 200 سرباز يمني از سوي مبارزان حوثی

- دربرابرهرحکمي عليه خود واکنش نشان مي دهيم

- رایزنی های دینی و فرهنگی در باکو

- پله برقی پادشاه عربستان برای لبنانیها دردسرساز شد

- شیطنت وهابی ها و هوشیاری دانشجویان شیعه


  نظرسنجی






web counter