| کد: 174465 | تاریخ: 2009/12/25 | منبع: ابنا خصوصی | print |
یہ نوجوان اسماعیل ہےحسین (ع) کا
|
«...یہ ایام مصائب اور گریہ و بکاء کے ایام ہیں؛ آپ بھی ہر جگہ سن رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں. میں بھی صرف اس عظیم حسینی ضیافت میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے چند کلمات عرض کرتا ہوں اور چونکہ ہماری ملت نے بھی بڑی تعداد میں نوجوان قربان کردیئے ہیں، شاید اس اجتماع میں ہزاروں افراد ہونگے جنہوں نے اپنے نوجوان قربان کردیئے ہیں. میں نے بھی سوچا کہ امام حسین (ع) کے نوجوانوں کے بارے میں کچھ کہتا چلوں.
ہم سب سے سفارش کرتے ہیں کہ متن کو سامنے رکھ کر مصائب پڑھا کریں؛ چنانچہ میں بھی اللہوف کا متن آپ کے سامنے پڑھتا ہوں تا کہ دیکھ لوں کہ متنی مجلس کس طرح ہوتی ہے.
بعض لوگوں کا خیال نہیں ہے کہ وہی کچھ پڑھ لیا جائے جو کتاب میں ہے بلکہ متن کو پرورش دینی پڑتی ہے [اور اس میں دیگر الفاظ اور جملات کا اضافہ کرنا پڑتا ہے] ٹھیک ہے کبھی کبھار یہ بھی درست ہے مگر ہم کتاب کو سامنے رکھ کر مصائب بیان کرتے ہیں.
علی بن طاؤس (المعروف سید بن طاؤس) چھٹی صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے ہیں؛ ان کے خاندان کے افراد سب اہل علم اور اہل دین ہیں. وہ سب یا پھر ان میں سے اکثر بہت اچھے ہیں. بالخصوص یہ دو بھائی یعنی علی بن موسی بن جعفر بن طاؤس اور احمد بن موسی بن جعفر بن طاؤس جو بزرگ علمائے دین اور بزرگ مؤلفین اور معتبرین میں سے ہیں. کتاب "اللہوف" سید علی بن موسی بن جعفر بن طاؤس کی ہے. ہمارے اہالیان منبر کے مطابق اس کتاب کی عین عبارت ـ روایت کی مانند ـ پڑھی جاتی ہے جو بہت ہی قطعی، درست اور اہم ہے؛
میں اس کتاب کا متن اور عین عبارت پڑھ لیتا ہوں:
کہتے ہیں: «فلمّا لم يبق معه سوی اهل بيته»؛ یعنی جب سارے اصحاب و انصار شہید ہوئے اور اہل خاندان کے سوا کوئی باقی نہیں رہا «خرج علی بن الحسین علیہ السلام» علی اکبر خیمے سے باہر آئے «و كان من اصبح النّاس وجهاً» اور علی اکبر چہرے کے لحاظ سے خوبصورت ترین نوجوان تھے. «فاستأذن اباہ في القتال»؛ والد معظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ کی اجازت مانگی؛ اور عرض کیا: ابا جان! بس اب مجھے جنگ کی اجازت دیں تا کہ میں بھی اپنی جان قربان کردوں. "فَأَذن لہ"؛ والد نے لیت و لعل کے بغیر جنگ کی اجازت عنایت فرمائی!
یہ نہ تو انصار و اصحاب میں سے ہیں اور نہ ہی بھتیجے یا بھانجے ہیں کہ امام (ع) کہہ دیں کہ "نہیں، جنگ کے لئے مت نکلو" یہ امام (ع) کے جسم و جگر کا ٹکڑا ہے جو جنگ کے لئے نکلنا چاہتا ہے تو امام (ع) کو انہیں اجازت دینی پڑتی ہے؛ یہ امام حسین (ع) کا انفاق و خیرات ہے. یہ حسین (ع) کا اسماعیل ہے جو میدان میں اتررہا ہے. «فَأَذن لہ» امام (ع) نے جانے کی اجازت دی. «ثم نظر الیہ نظر یائس منہ» لیکن جب میدان کی طرف روانہ ہوئے تو امام (ع) نے ایک مأیوس بھری نگاہ بیٹے کے قد و قامت پر ڈالی «ثم ارخی علیہ السلام عینہ و بکی، ثم قال اللہم اشہد» امام علیہ السلام نے آنکھین جھکائیں اور رو کر عرض کیا: خداوندا! تو خود گواہ ہے«فقد برز الیہم غلام اشبہ الناس خَلقاً و خُلقاً و منطقاً برسولک» میں ایسا نوجوان میدان جنگ اور موت کے منہ میں بھیج رہاہوں جو چہرے، اخلاق اور منطق اور طرز کلام کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ تیرے رسول سے مشابہت رکھتا ہے.
آپ دیکھیں امام حسین (ع) اس نوجوان سے کتنی محبت کرتے ہیں؛ اس نوجوان کے عاشق ہیں؛ اس نوجوان سے آپ (ع) کی محبت کا سبب صرف یہی نہیں ہے کہ وہ آپ (ع) کا بیٹا ہے بلکہ یہ محبت نبی اکرم (ع) کی شباہت کی وجہ سے ہے اور یہ شباہت بھی اس قدر شدید ہے؛ اور یہ حسین (ع) بھی وہ ہیں جو آغوش رسالت میں پرورش پاچکے ہیں. اس نوجوان سے شدید محبت رکھتے ہیں اور اس لڑکے کے میدان جنگ کی طرف روانگی آپ (ع) کے لئے بہت گراں ہے. بالآخر علی اکبر (ع) میدان کارزار کی طرف چلے گئے.
مرحوم سید ابن طاؤس نقل کرتے ہیں کہ نوجوان علی اکبر میدان جنگ میں چلے گئے اور بہادری سے لڑے اور پھر میدان سے بابا کے پاس لوٹے اور عرض کیا: بابا جان! پیاس مجھے ماررہی ہے اگر تھوڑا سا پانی ہے تو عنایت فرمائیں. امام (ع) نے وہ مشہور جواب انہیں دیا اور فرمایا: بیٹا! میدان میں واپس لوٹو؛ زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ اپنے جد کے ہاتھوں سے سیراب ہوجاؤگے.
«فرجع الي موقف نضال»؛ علياكبر میدان جنگ کی طرف لوٹے.
کتاب کے مؤلّف ابن طاؤس ہیں نہایت قابل اعتماد اور معتبر عالم ہیں. رونے رلانے یا مثلاً مجلس گرم کرنے کے لئے بات نہیں کرتے. ان کی عبارات متقن اور صحیح ہیں. کہتے ہیں: «و قاتل اعظم القتال»؛ علياكبر نے عظیم ترین جنگ لڑی؛ انتہائی شجاعت و بہادری کے ساتھ لڑے. تھوڑی دیر ہی لڑے تھے کہ «فرماه منقذ بن مرة العبدي لعنه الله بسهم فصرعه»؛ ایک شقی منقذ بن مرہ عبدی نے نوجوانِ حسین (ع) کی طرف تیر پھینکا؛ «فصرعہ»؛ تیر کا زخم کھا کر عرش زین سے فرش زمین پر آرہے۔
«فنادا يا ابتاہ عليك السّلام»؛ نوجوان کی صدا سنائی دی اباجان! سلام ہو آپ پر بابا خدا حافظ «هذا جدّي يقرأك السّلام»؛ یہ میرے جدّ رسول خدا (ص) ہیں جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں؛ «و يقول عجل القدوم علينا»؛ اور فرمارہے ہیں کہ "بیٹا حسین! جلدی آنا" علی اکبر نے یہی ایک بات زبان پر جاری کردی «ثم شهق شهقتاً فمات»؛ اس کے بعد ایک ہچکی لے کر دنیا سے رخصت ہوئے.
«فجاء الحسين عليہالسّلام»؛ امام حسين (ع) نے بیٹے کی آواز سنی تو میدان جنگ کی طرف نکلے اور اس مقام پر پہنچے جہاں آپ کے فرزند کا جسم مبارک زمین پر پڑا تھا. «حتّي وقف عليہ»؛ اپنے بیٹے کے سرہانے رک گئے «و وضع خدّہ علي خدّہ»؛ اور اپنا رخسار بیٹے کے رخسار پر رکھ دیا «و قال قتل اللہ قوماً قتلوك ما اجرأهم علي اللہ»؛ رخسار بیٹے کے رخسار سے ملا کر فرمایا: خداوند متعال مار دے اس قوم کو جس نی تمہیں قتل کیا کتنی گستاخی کا ارتکاب کیا انھوں نے خدا کے خلاف!۔
قال الرّاوي: «و خرجت زينب بنت علي عليہماالسّلام»؛ راوي کہتے ہیں کہ ہم نے اچانک دیکھا کہ علی (ع) کی بیٹی زینب سلام اللہ علیہا خیموں سے باہر نکلیں «تنادی يا حبيباه يا بن اخاه»؛ سیدہ نے آواز دی اے میرے عزیز اور اے میرے پیارے فرزندِ برادر «و جائت فأكبّت عليه»؛ آئیں اور اپنے آپ کو بھتیجے کی لاش پر گرادیا؛ «فجاءالحسين عليهالسّلام فأخذها و ردها الي النّساء»؛ امام حسين عليہالسلام آئے اور بہن کا بازو پکڑا او انہیں بیٹے کی لاش سے اٹھا کر خواتین کے پاس پہنچایا.
«ثمّ جعل اهل بيتہ صلواتالله و سلامه عليهم يخرج رجل منهم بعدالرجل»؛ ابن طاؤس اس واقعے کے بعد کے واقعات بیان کرتے ہیں اور اگر ہم ان کلمات و عبارات کو پڑھنا چاہیں تو حقیقتاً ان کلمات کو سن کر انسان کا دل پگھل جاتا ہے.
ابن طاؤس کی اس عبارت سے ایک بات میرے ذہن میں آئی؛ یہ جو نقل کرتے ہیں کہ : «فأكبّت عليہ»، اس جملے میں جو کچھ سید نقل کرتے ہیں قطعی طور پر درست ہے اور صحیح روایت پر مبنی ہے. اس جملے میں سید بن طاؤس یہ نہیں کہتے کہ امام حسین (ع) علی اکبر (ع) کی لاش پر گر گئے امام حسین (ع) نے صرف اپنا چہرہ بیٹے کے چہرے پر رکھا مگر جس نے علی اکبر کی لاش پر بے چینی کے عالم میں اپنے آپ کو علی اکبر کی لاش پر گرایا وہ حضرت زینب کبری (س) تھیں.
میں نے کسی کتاب میں نہیں دیکھا کہ اس بزرگوار زینب، سادات کی اس پھوپھی، اس عقیلۂ بنی ہاشم نے اپنے دو بیٹوں اور اپنے دو علی اکبروں ـ عون و محمد ـ کی شہادت پر ایسے رد عمل کا اظہار کیا ہو. مثلا آپ (س) نے فریاد اٹھائی ہو یا ان کی لاشوں پر گر پڑی ہوں.
ہمارے زمانے کی مائیں بھی حقیقتاً حضرت زینب (س) کے نسخے پر عمل پیرا ہیں. میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ ایک شہید، دو یا تین شہداء کی ماں کو جب دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے میں کمزوری اور عجز و انکسار کی علامت دیکھنے کو نہیں ملتی. مائیں واقعی شیر زنوں کا مصداق ہیں اور یقینا ان کا نسخہ حضرت زینب (س) کا کردار ہے اور یقیناً ان کے عمل و روش کی بنیاد سیدہ ثانی زہراء (س) کا کردار ہے.
سیدہ زینب (س) کے دو نوجوان بیٹے شہید ہوئے مگر انھوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تاہم دو دیگر واقعات میں ـ اپنے فرزندوں کی شہادت کے واقعات کے بغیر ـ سیدہ (س) نے شہیدوں کی لاشوں پر گر کر اپنے شدید غم اور بے چینی کا اظہار کیا ہے. ایک تو یہی واقعہ ہے جس میں سیدہ علی اکبر (ع) کی لاش پر آئیں تو بے اختیار بھتیجے کی لاش پر گر پڑیں اور ایک واقعہ عصر عاشور کا ہے جب ان کے بھائی ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام شہید ہوئے تو آپ بھائی کی لاش پر حاضر ہوئیں اور نانا رسول اللہ (ص) سے مخاطب ہوکر عرض کیا: «يا رسولاللہ! هذا حسينك مرمل بدماء»؛ اے رسول خدا، یہ ہیں آپ کے حسین؛ یہ ہیں آپ کے پیارے حسین؛ آپ کے جگر کا ٹکڑا؛ کیا مصیبتیں برداشت کیں خاندان رسول اللہ (ص) نے! لاحول و لاقوة الّا بالله العلي العظيم.
دوسرے خطبے سے قبل اللہ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوتے ہیں ان اشکوں بھری آنکھوں کے ساتھ خدا سے التجا کرتے ہیں. جمعہ کا ظہر ہے. ان شاءاللہ خداوند متعال اپنی برکتیں اور رحمتیں ہم پر نازل فرمائے.
پروردگارا! تجھے حسین و زینب عليہماالسّلام کی قسم ، ہمیں ان کے اعوان و انصار اور پیروکاروں کے زمرے میں قرار دے.
پروردگارا! ہماری زندگی کو حیات حسینی اور ہماری موت کو موت حسینی قرار دے.
پروردگارا! ہمارے بزرگوار امام کو شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرما جنہوں نے ہماری اس راہ کی جانب راہنمائی کی.
پروردگارا! جن لوگوں نے اللہ کی راہ، اس انقلاب اور اسلام کی راہ میں اپنی جانیں پیش کیں ـ عزیز جانبازوں (جنگ کے معذورین)، ایثارگروں (جنگ میں لڑکر واپس آنے والے غازیوں)، آزادگان (جنگ میں اسیر ہوکر لوٹنے والے مجاہدین) اور دشمن کے ہاتھوں میں اسیروں ـ پر اپنے غیب کے خزانے سے رحمت و فضل نازل فرما.
پروردگارا! اس امت اور اس ملت پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس ملت کے تمام مسائل اپنے فضل و تدبیر اور حکمت سے حل فرما.
پروردگارا! اس عظیم ملت، اس عاشورائی ملت کو تمام چھوٹے اور بڑے دشمنوں پر فتح و نصرت عطا فرما؛ اور اس کے دشمنوں کومأیوس اور نا امید کرکے ناکامی سے دوچار فرما.
پروردگارا! اسلام کو ہمارے بیچ ہر روز زندہ تر اور شاداب تر فرما.
پروردگارا! اس ملک و ملت کے لئے ہر لحاظ سے خدمت کرنے والے ـ خاص طور پر ملک کے اعلی حکام جو مخلصانہ خدمت کررہے ہیں ـ کو ان کی زحمتون کا اجر بہترین اور وافر ترین انداز میں عطا فرما.
پروردگارا! ہمارے حقداروں کی مغفرت فرما؛ ہمارے بیماروں کو شفا عنایت فرما؛ ہمارے والدین، ذوی الحقوق اور ہمارے اساتذہ کو اپنی رحمت و فضل میں شامل فرما.
پروردگارا! جو حاجتمند ہیں اور جنہوں نے ہم سے دعا مانگی ہے اور ہم سے کہا ہے کہ ان کی درخواست باری تعالی کی بارگاہ میں پیش کریں، ہم تجھ سے گڑگڑا کر عرض کرتے ہیں کہ ان کی حاجتیں برآوردہ فرما.
پروردگارا! تجھے محمّد و آل محمّد کی قسم، امّت اسلامي کو دنیا کے تمام گوشوں میں سربلند فرما؛ انہیں حسینی فرائض کی تعلیم عطا کر؛ انہیں ان فرائض کی ادائیگی کی توفیق عنایت فرمایا.
پروردگارا! تجھے محمّد و آل محمّد کی قسم، ہمارے ولی عصر ارواحنا فداہ کو ہم سے راضی اور خوشنود فرما؛ ہمیں آپ (عج) کے انصار و اعوان اور محبین و انصار میں قرار دے؛ ہمیں آپ (عج) کی زیارت کی توفیق و سعادت عطا فرما.
پروردگارا! تجھے محمّد و آل محمّد کی قسم، جس نیکی اور بھلائی کی ہم نے تجھ سے التجا کی یا جن بھلائیوں کی ہم نہیں التجا نہیں کی وہ سب ہمیں عطا فرما اور جس شر سے بھی ہم نے تیری پناہ مانگی یا پناہ نہیں مانگی ہمیں اس سے اپنے حفظ و امان میں رکھ.
@یادرہے کہ متذکرہ بالا مجلس درحقیقت رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای ـ مد ظلہ العالی ـ کا خطبه جمعہ ہے جو آپ نے روز عاشور محرم 1416 ہجری بمطابق 9 جون 1995 بروز جمعہ تہران میں دیا تھا.@
ترجمہ: ف.ح. مہدوی
| Share : | Del.icio.us |
Digg |
Facebook |
Newsvine |
Reddit |
Technorati |