| کوڈ: 323421 | تاریخ: 2012/06/19 - 22:25 | مآخذ: جعفریہ پریس | print |
انٹرویو کا مکمل متن:
جعفریہ پریس۔علامہ صاحب آپ اس وقت پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبرہیں ،اس کونسل کے متعلق آگاہی دیں کہ آئینی اعتبار سے یہ ریاستی ادارہ ہے یاحکومت کاذیلی ادارہ؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ،یہ ادارہ آئینی ادارہ ہے اور ریاست کا ادارہ ہے حکومت کا ذیلی ادارہ نہیں ہے،جس طرح سپریم کورٹ ہے ،جس طرح لیکچرکمیشن ہے۔ اور اس کا براہ راست تعلق اسمبلی سے بنتا ہے،اور یہ صدر کے انڈر ہوتی ہے ،البتہ جس طرح سے سپریم کورٹ کا تعلق وزارت قانون سے بنتا ہے لیکن وزارت قانون کے انڈر نہیں ہوتے یا اس کا ذیلی ادارہ نہیں ہوتا اس طرح اسلامی نظریاتی کونسل کا تعلق جو ہے وزارت مذہبی امور سے اور وزارت قانون سے ہے، دونوں سے ریلیٹڈ ہے لیکن یہ وزارت مذہبی امور کا ذیلی ادارہ نہیں ہے۔ البتہ ٧٣ کے آئین میں اس کا نام اسلامی نظریاتی کونسل ہے،١٩٥٠میں قرارداد مقاصد پاکستان کے عنوان سے ایک کمیٹی بنی و تیار ہوئی اور اسکے بعد جو دستور بنانے کے مختلف مراحل گذرے اور بعد میں دستور نافذ کرنے کی بحث وغیرہ ہر دور میں علماء کی ایک کونسل کا ادارہ موجود رہا ہے جس میں علماء ، قانون کے ماہرین اورجج وغیرہ تھے ،اس کی با قاعدہ شکل ١٩٧٣ کے آئین میں آئی اور اس کا نام اسلامی نطریاتی کونسل رکھا گیا۔
جعفریہ پریس۔علامہ صاحب اسلامی نظریاتی کے اراکین کی تعداد کتنی ہے؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے کم ازکم ٨ ارکان ہوتے ہیں جن میں سے ٤ علماء، ایسے علماء جن کا فقہی تدریس میں١٥سالہ تجربہ ہو، جس مسلک کی وہ نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں ،٢جج ریٹائرڈ ہوں یا حاضر سروس ہوں، ایک خاتون اور ایک اور آدمی وہ عالم بھی ہو سکتا ہے غیر عالم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ان کی تعداد ٢٠ ہے۔ اس میں یہ مشخص نہیں ہے کہ کس مسلک کے کتنے افراد ہونے چاہئیں، مختلف شعبوں کے ماہرین، اقتصاد کے، قانون کے، ججز اور علماء اسلام۔

جعفریہ پریس۔علامہ صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین کا طریقہ انتخاب یا انتصاب کیا ہے ؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ ان کا طریقہ انتصاب یہ ہے کہ وزارت مذہبی امور کی طرف سے یا متفرق افراد ہیں، نمائندے ہیں، سینیٹر ہیں یاجماعتوں کی طرف سے یاکسی اور طریقے سے یہ اسامی مذہبی امور کے پلیٹ فارم سے جاتے ہیں وزیر اعظم کے پاس، وزیر اعظم انہیں بھیجتا ہے صدر کے پاس ، صدر نے نامزد کرنا ہوتا ہے اور ان کی مدت تین سال کے لئے ہوتی ہے اور ان کا ایک چیئرمین ہوتا ہے جو ان ہی اراکین میں سے ہوتا ہے یعنی اگر ٨ ہیں تو ان ٨ اراکین میں سے ایک چیئرمین ہے اور اگر ٢٠ ہیں توان ٢٠ میں سے ایک چیئرمین ہوگا۔
جعفریہ پریس۔علامہ صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کا کام کیا ہے اور کس قسم کے امور انجام دیتی ہے؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ اس کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ ٧٣ کے آئین کے مطابق اسمبلی جو بھی قوانین پاس کریگی وہ قوانین قرآن و سنت کے مطابق ہونگے (قرآن وسنت کی تاویل ہر مسلک کی اس کے اپنے مطابق ہوگی ) اس کے لئے ایک ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل ہوگا، جو قوانین اسمبلی میں پاس ہونگے ان کو دیکھے گا کہ خلاف قرآن وسنت تو نہیں ہیں اگر وہ خلاف قرآن وسنت ہونگے تو وہ اسمبلی کو دوبارہ بھیجے گا کہ یہ جو قانون پاس کیا گیا ہے یہ اسلام کے مخالف ہے اس پر دوبارہ تجدید کرو اور از خود بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین کوئی تجویز یا سفارش بنا کر بھیج سکتے ہیں تاکہ اسلام کے حوالے سے اسمبلی اس پر قانون سازی کرے یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی وزارت کی طرف سے یا صدر کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سوال بھیجا جاتا ہے کہ اس کے بار ے میں اسلامی رائے ہمیں دی جائے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا جو ادارہ ہے یہ ایک قانون ساز ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مشاورت کا ادارہ ہے اور جتنے بھی قانون سازی کے ادارے ہیں یعنی صوبائی اسمبلیاں ہوں یا قومی اسمبلی یا سینٹ اس میں جتنے قوانین پاس ہوتے ہیں چاہے ان قوانین کا تعلق فوجداری سے ہو یا سول سے جس سے بھی ہو یا جو معاہدات ہوتے ہیں ملک کے غیر ممالک سے وہ بھی ایک قانون بن جاتاہے ان سب کا جائزہ لینا اور اسکے بارے میں رائے دینا اور ایک قسم راہنمائی کرنا اس راہنمائی کے مطابق آگے اب اس پر عمل ہوتا ہے یا نہیں وہ الگ مرحلہ ہے عملا ہوا یہ ہے کہ اس ادارے کو حکومتوں نے ایک تشریفاتی پروٹوکول ہی رکھا ہے اور آئین کا کیونکہ تقاضا ہے اس کو پورا کرنا تھا اگر یہ نہ بنائیں تو ئین کی خلاف ورزی ہے لیکن اس سے جس طر ح فائدہ اٹھانا چاہئے وہ حکومتوں نہیں اٹھایا کیونکہ ہماری سیاسی حکومتیں نہیں چاہتی تھیں کہ سارے قوانین اسلام کے مطابق بنادئے جائیں اگرچہ اس وقت جو رائج قوانین ہیں ان میں زیادہ تر قوانین تو معاشرتی حوالے سے ہیں جو اسلام سے متصادم نہیں ہیں لیکن ظاہر ہے بہت سارے قوانین ایسے ہیں جو اسلام کے منافی ہیں مثلا فیملی لاز کے حوالے سے بعض قوانین ایسے ہیں جو ایوب خان نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا وہ ہی فاملی لاز ابھی تک قائم چلا آرہا ہے۔ عدالتوں میں پرابلم ہوتا ہے بالخصوص شیعہ مسلک والوں کو دیگروں کو بھی ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کا آرڈیننس برقرار ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے چکی ہے کہ اس کی بعض شقیں اسلام کے خلاف ہیں، فقہ حنفی کے بھی خلاف ہیں فقہ جعفری کے بھی خلاف ہیں، بلکہ ضیاء الحق کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کی ترمیم کی سفارش دی،وزارت قانون نے بھی لکھا کہ یہ آرڈیننس جو ہے اسلام کے لئے بدنما داغ ہے ،وزارت مذہبی امور نے بھی لکھا۔لیکن ضیاء الحق نے اس آرڈیننس کو تبدیل نہیں کیا اور اس کے بعد جو صدور آئے انہوں نے بھی نہیں کیا اور ابھی موجودہ صدر کو بھی لکھ کر بھیجا ہوا ہے کیونکہ صدر ہی اس آرڈیننس جو کہ نافذ ہے اس کے بارے میں ترمیمی آرڈیننس جاری کر سکتا ہے ، یا صدر مثلا اسلامی نظریاتی کونسل کو کہہ سکتا ہے کہ اس کے بارے میں تجویز دیں یا اس کو ازخود اسمبلی میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا یہ ایک بات اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہمیشہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمینی ایک غیرعالم ڈموکریٹ کے پاس رہی جن مین بعض رٹائر جج بھی تھے البتہ عربی پر ان کا تسلط تھا لیکن معروف معنا میں وہ علماء میں شمار نہیں ہوتے تھے۔مولانا کوثر نیازی کو بنایا گیا تھا لیکن وہ فقط ایک اجلاس کر سکے اور تین ماہ بعد فوت ہوگئے اور اب پہلی دفعہ یہ ہے کہ اسلامی نطریاتی کونسل کی چیئرمینی ایک عالم دین کے پاس ہے جن کا تعلق جمیعت علمائے اسلام مولانافضل الرحمن گروپ اوردیوبندی مسلک سے ہے،لیکن وہ کھلے ذہن کے مالک اور متوازن سوچ رکھنے والے ہیں ۔

جعفریہ پریس۔ علامہ صاحب آپ نے فرمایاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمینی ہمیشہ غیرعالم کے پاس رہی ہے اوریہ پہلی بارہواہے کہ اس ادارے کی چیئرمینی ایک عالم دین کے پاس ہے کیاایک عالم دین کے پاس چیئرمینی منتقل ہونے کے بعداس ادارہ میں کوئی خاص تبدیلی رونماہوئی ہے؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو جب سے یہ چیئرمین بنے ہیں انہوں نے دو کام کئے ہیں ایک تو یہ کام کیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جو آئینی حیثیت ہے اس کو بحال کیا جائے، سابقہ ادوار میں یہ ہوتا رہا کہ سفارشات جو مرتب کردی جاتی تھیں وہ وزارت مذہبی امور کو بھیج دی جاتی تھیں اور وزارت مذہبی امور ان کو دفتر میں ڈال دیتے تھے ۔البتہ ضیاء الحق کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل میں کام زیادہ ہوا کیونکہ وہ دعوے دار تھا کہ میں نظام مصطفی لانا چاہتا ہوں اور وہاں ڈاکٹر دوالئی بھی مصرسے خدمت کے لئے بلائے گئے تھے اور بھی تھے اور اس دور میں آپ کو معلوم ہے اور شیعہ حضرات آگاہ ہیں کہ ضیاء الحق نے کہا تھا کہ پاکستان میں فقہ حنفی کے مطابق قانون نافذ ہوگا جس پر اسلامی نطریاتی کونسل کا اتفاق ہے جس پر مفتی جعفرحسین اعلیٰ اللہ مقامہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ضیاء الحق نے جھوٹ بولا ہے اور ہمارا اختلاف نظر ہے اور اسی پر ہی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بنی اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں پر فقہ جعفری نافذ کی جائے جیسا کہ مخالفین کی طرف سے یہ پروپگنڈہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ٧٣ کے آئین میں جو ہمارا آئینی حق ہے ،اس آئینی حق کے تحت ہمارے لئے فقہ جعفری ہوگی۔ یہ خالی پاکستان کے آئین میں ہمارا حق نہیں ہے بلکہ دنیا میں پرسنل لا اور عبادات جو ہیں اس میں ہر شہری کا حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے مسلک اور مذہب کے مطابق عمل کرے ۔اسی بنیاد پر جب یہ کہا گیا کہ زکاة سب سے لینا ہوگی ، مفتی جعفر صاحب نے کہا کہ نہیں ہمارا اختلافی نوٹ ہے ہم زکاة نہیں دینگے کیونکہ ہمارے مسلک کے مطابق زکاة عبادات سے ہے اور اس میں تقرب الیٰ اللہ کی نیت شرط ہے اور خود دینے والے کو اطمینان ہو کہ زکات جہاں دے رہا ہے ٹھیک جگہ جا رہی ہے پھر یہ ہے کہ کرنسی کے نوٹوں پر ہمارے ہاں زکات نہیں ہے اور جبری بھی نہیں لی جا سکتی کہ بینکوں سے کم کرلیں،اور یہ بھی وہی آئین کا تقاضا تھا لہذا ضیاء الحق مجبور ہو ا اور اس نے شیعوں کو اس حوالے سے استثنیٰ دیا اور یہ اگر آئین میں گنجائش نہ ہوتی تو شاید پھر کوئی آئین میں ترمیم کی جاتی یا اور صورتحال نکلتی۔ ضیاء الحق کے دورمیں ہی قرار داد مقاصد کو باقاعدہ آئین کا حصہ بنا دیا گیا اس سے پاکستان میں شیعوں اور باقی مسالک کے سب پیروکاروں کو ڈبل تحفظ حاصل ہوا، ایک تو خود آئین میں بھی ہے پھر قرار داد مقاصد بھی یہی کہتی ہے اس طرح انہیں یہ تحفظ ملا۔(خیربات ہورہی تھی موجودہ چیئرمین کی )جب یہ ایک کام اس چیئرمین نے کیا کہ انکے اراکین جو حیثیت ہے اور ان کا جو پروٹوکول جو ہے وہ قومی اسمبلی کے ممبر اور سینیٹر کا ہے اور سابقہ ادوار میں بعض اختیارات ان کو مل رہے تھے بعض نہیں مل رہے تھے انہوں نے کوشش ہی نہیں کی نہ یہ کہ کوئی رکاوٹ تھی لیکن اس چیئرمین نے آکر یہ کوشش کی ہے ،دوسرا اس چیئرمین نے یہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے ہی اجلاس میں یہ کہا کہ ہمیں چاہئے کہ جو ہماری فقہ ہے چاہے وہ حنفی ہے یا جو بھی ،ہمارے مدارس کا اور ہمارے علماء کا فقہی مسائل،شرعی مسائل بیان کرنے کا ایک مخصوص انداز ہے جبکہ جو قانون اور لا ہے یا جو عدالتوں میں رائج زبان ہے وہ اور ہے ،تو ہمیں چاہئے کہ ہم اس زبان میں باقاعدہ فقہ مدون کرکے دے دیں تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ ہی کے لئے حل ہو،جہاں ضرورت ہو قوانین پاس کرانے کی قوانین پاس کرائے جائیں اور جہاں ترمیم کی ضرورت ہو ترمیم کی جائے اس سلسلے میں انہوں نے ٤ کمیٹییاں بنائیں،ایک احوال شخصیہ کی۔کیونکہ یہ انتہائی اہم ہے ،ایسا نہیں ہے کہ شیعوں کی فقہ کے مطابق عدالتوں میں فیصلے نہیں ہو رہے بلکہ فقہ حنفی کے مطابق بھی یہ فیصلے نہیں ہوتے یعنی یہ پرابلم سارے مسلمانوں کا ہے جو بھی پاکستان میں بستے ہیں،جبکہ آئین نے حق دیا ہے ،قانون سازی اسمبلی نے کرنی ہوتی ہے اس نے قانون سازی کی نہیں،ایک ظالمانہ غیراسلامی آرڈیننس ایوب خان آمر کا جاری و ساری ہے اس کے بعد پھر مشرف بھی اپنے دور میں خواتین کے حوالے سے آرڈیننس جاری کرگیا وہ بھی خلاف اسلام ہے اس کے لئے بھی اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش تیار کی ہے ،دوسری کمیٹی تھی تعزیرات اور حدود کے حوالے سے،تیسری کمیٹی معیشیت کے حوالے سے اور چوتھی کمیٹی ہے معاہدات کے حوالے سے،یہ جومعاہدات ہیں گورمنٹ کے جب سے پاکستان بناہے ۔
جعفریہ پریس۔علامہ صاحب درجے کے اعتبار سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا درجہ کیا ہے؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ چیئر میں جو ہے اس وقت حکومت والوں نے انہیں وزیر مملکت کا درجہ دیا ہے لیکن کونسل والوں نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ چیئرمین کا درجہ جو بنتا ہے وہ سپیکر کا یا سینٹ کے چیئرمین کا ہے یہ بحث بھی چل رہی ہے اور اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کونسل نے بھیجا ہے کہ کیونکہ کونسل ہے قومی اسمبلی سے ریلٹیڈ ، قانون ساز اداروں سے ریلٹیڈ ، کسی وزارت خانے سے ر یلٹیڈ نہیں ہے لذا کونسل کے چیئر مین کو اجازت ہو کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں جا کر اپنی سفارش پیش کر سکے باقی غور تو ممبروں نے کرنی ہے قانون سازی تو انہوں نے کرنی ہے لیکن بجائے اس کے کہ کوئی کلرک اس سفارش کو اسمبلی میں لے کر جائے یا کسی لیٹر یا خط کے ذریعہ اسے بھیجا جائے خود چیئرمین صاحب جاکر پیش کرے کیونکہ اگر کسی وضاحت یا دلیل کی ضرورت ہو تو وہ خود پیش کر سکے بہرحال اس کی کوشش ہو رہی ہے اصولاً تو اسے قبول ہونا چاہیے لیکن ابھی ہوا نہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ حکومتیں یہ نہیں چاہتیں کہ یہ ادارہ اتنا زیادہ فعال ہو یا اتنا بڑا کام کرے کیونکہ اگرچہ حکومتیں (اپنے مفادات کے تحت) اسلامی قوانین کے نفاذ کا نعرہ تو بلند کر لیتی ہیں لیکن عملی میدان میں ایسا ہونے کو پسند نہیں کرتیں حالانکہ حکومتی ادارے ایسا کریں تو ان کے فائدے میں ہے ان کی آئینی ذمہ داری بھی ہے بلکہ اگر وہ کوئی غیر اسلامی قانون پاس بھی کردیں تو اسے سپریم کورٹ یاشریعت کورٹ میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سود والا سلسلہ ہے وہ چیلنج ہوگیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے اسلام کے خلاف ہے لیکن یہ چیلنج سپریم کورٹ اور شریعت کورٹ کے درمیان لٹکا ہوا ہے سات آٹھ سال ہوگئے ہیں کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا حالانکہ معلوم ہے کہ سود پر مبنی بینکی نظام تبدیل ہونا چاہیے لیکن اس کے باوجود دو کورٹوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے اس پر بھی اسلامی نظریاتی کونسل میں غور ہوا ہے، اس طرح بعض کے خیال میں ہے کہ یہ ادارہ غیر اہم ہے جبکہ درحقیقت غیر اہم نہیں ہے اہم ہے لیکن حکومتیں اسے فعال نہیں دیکھنا چاہتیں جیسا کہ ہمارے ملک میں اور بھی بہت سے ادارے ایسے ہیں جن کے متعلق قوانین تو ہیں لیکن ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا مثلاً سزا کا قانون تو ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا۔
جعفریہ پریس ۔علامہ صاحب اس دورانیہ میں اب تک کتنے اجلاس ہوئے ہیں اورکیاامورطے پائے ہیں؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ اس کے لئے میں ٢٢جون ٢٠١١میں باقاعدہ ممبر بنا تو یہ اب ٦مئی کو اس مالی سال کا آخری اجلاس تھا تقریباً اس دورانیہ میں ٩ اجلاس ہوئے ہیں سابقہ یہ ہوتا تھا کہ سال میں ٤ اجلاس کرتے تھے جبکہ امکانات سارے لیتے تھے کیونکہ باقاعدہ تنخواہ بھی ملتی ہے باقی سہولیات بھی ہیں،تو موجودہ چیئرمین نے علماء ودیگر اراکین سے کہا کہ یہ جو پاکستان کا بجٹ ہمارے اوپر خرچ ہوتا ہے اگر ہم اس حوالے سے کام نہ کریں تو شرعا ہمارے لئے یہ پیسے لینا جائز نہیں ہے لہذا کام کرنا چاہئے اور اس کی خواہش تو کافی ہے لیکن جو بیوروکریسی ہے اس طرح تعاون نہیں کر رہی (کیونکہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی سؤ،سوا سؤ کے قریب اچھی خاصی ملازمین کی تعداد ہے صحیح یاد نہیں بہرحال بہت بڑی تعداد ہے جو کام کر رہی ہے ) اس لئے انہوں نے ٩ اجلاس کئے بلکہ ان کی خواہش تھی کہ ہر مہینے اجلاس کریں لیکن بیورو کریسی صاحبہ نے بتایا کہ نہیں بھائی،بجٹ ہی نہیں ہے،حالانکہ بہت سارے اورکاغذپرخرچ ہوتے ہیں ،فیکس تو کہا بجٹ ہی نہیں ہے وہ تو ہر مہینے نہیں لاتے تھے ۔ لیکن یہ بڑی بات ہے کہ ایک سال میں ٩ اجلاس ہوئے ہیں البتہ ٩ اجلاسوں میں ہوا یہ ہے کہ کچھ بحثیں التزامی امور کی نظر ہوگئیں،کچھ سوالات آئے ہوئے تھے سپریم کورٹ کی طرف سے ،وزارت مذہبی امور کی طرف سے اس میں چلے گئے ،کچھ سابقہ ادوار میں چیزیں پاس ہوئی ہیں اسمبلی سے ،سفارشات مرتب ہوئی ہیں تو جب علماء نے ان سفارشات کو پڑھا تو دیکھا وہ سفارشات ٹھیک نہیں تھیں یعنی خلاف اسلام تھیں تو ان پر تجدید نظرکی گئی یعنی ابھی یہ سوال کہ اسمبلی کو کچھ بھیجا ہے کہ نہیں بھیجا تو ابھی کچھ سفارشات تیار ہوئی ہیں اسمبلی کو بھیجنے کے لئے، یعنی یہ ابھی تیار ہوئی ہیں اور اب بیوروکریسی کیا کرتی ہے یہ کام پھر ریسرچ والوں کا ہوتاہے یہ جو عملہ ہوتا ہے ان کا انہوں نے کرنا ہوتا ہے البتہ کونسل نے بعض چیزیں پاس کردی ہیں۔

جعفریہ پریس۔ علامہ صاحب آپ نے مکتب تشیع کے ترجمان ہونے کی حیثیت سے کیا کردار ادا کیاہے؟
علامہ افتخارحسین نقوی۔ اس میں ہم نے اپنی رائے ہر موقع پر دی ہے اور بڑے مضبوط دلائل کے ساتھ دی ہے مثلا طلاق کے مسئلے میں ، حد بلوغ کے مسئلے میں، بچوں کی مشقت کے حوالے سے ،حج میں محرم کے حوالے، رویت ہلال کے حوالے سے اور بڑی بحث جو چلی وہ زکات کے حوالے سے،زکات کے حوالے سے ہم نے اپنی مخالف رائے بھی دی کیونکہ وہاں کوئی مناظرہ نہیں ہوتا بڑی محبت اور پیار کی فضا ہوتی ہے ہر شخص دوسرے کی رائے کو سنتا ہے اور اپنے مطلب کی رائے اس نے دینی ہوتی ہے لیکن بحث میں حصہ لیتے ہیں البتہ فقہ حنفی والے اگر کل ١٠ ہیں اور ایک مسئلے پر بحث ہو رہی ہے تو پھران کی جو اکثریت ہے اسی کو سفارش بنا لیتے ہیں۔فقہ جعفریہ سے ظاہر ہے میں اکیلا ہی ہوں،مجھے بھی جو کہنا ہوتا ہے میں کہتا ہوں یہ بھی نہیں کہ جو کچھ میں کہوں اس کو مان لیا جائے کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ٹھیک ہے وہ ہی لکھ دو البتہ زکات کے مسئلے میں ہوا یہ کہ جو ریسرچ کا ادارہ ہے ان کو ایک بحث تیا کرکے دی جاتی ہے اور ایک ایجنڈا دیا جاتا کہ اس پر ریسرچ اور تحقیق کرے اور بحث تیار کر کے دے پھر اس پر اراکین بحث کرتے ہیں اور اپنی رائے دیتے ہیں،زکات کے بارے میں جو انہوں نے ریسرچ کی تھی اس میں فقط آئمہ اربعہ کا حوالہ دیا گیا تھا امام جعفرصادق علیہ السلام اور آئمہ اہل بیت کا ذکر نہیں تھا جس پر میں نے اعتراض کیا اور احتجاج کیا کہ ریسرچ کا کام تو تمام مسالک کے حوالے سے ریسرچ کرنا ہے اگرکتاب نہیں ہے تو ہم کتاب مہیا کر سکتے ہیں اور پھر خود اسلامی نظریاتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی لائیبریری میں فقہ جعفری کی کتابیں بھی لائے اگر موجود نہیں یا اور کوئی پرابلم تھا تو مجھ سے رابطہ کرتے کیونکہ زکات والی بات چار اجلاسوں میں جاری رہی پہلے اجلاس میں،میں نے اعتراض کیا، دوسرے اجلاس میں بھی پھر وہ ہی روش جاری رہی تو اس پر پھر میں نے ٩٠ صفحات پر مشتمل ایک بحث تیار کی زکات و خمس فطرہ علی المذاہب الخمسہ بڑی اس بحث کو پسند کیا گیا اور آخری اجلاس میں باقاعدہ چیئرمیں صاحب نے یہ رولنگ دی کہ آئندہ جو بھی بحث اختیار کی جائے اس میں فقہ جعفری کا لحاظ رکھنا ہے اور ہم نے یہ بھی کہا البتہ اعضاء سے ہم نے کہا لیکن محبت ،پیار اور بڑے احترم کے انداز میں نہ کسی تنقید کے حوالے سے ہم نے کہا کہ آئمہ اربعہ اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور افتخار ہے ان کے لئے ان کی نسبت حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)کی طرف ہو جائے یا امام محمد باقر (علیہ السلام) یا امام رضا (علیہ السلام) کی طرف ہو جائے اور پھر بہت سارے ہیں جو بلا واسطہ ان کے (امام جعفر صادق (علیہ السلام))درس میں گئے ہیں اور کچھ مع الواسطہ ان کے درس میں گئے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے جب آپ معزز اراکین کوئی بھی فقہی بحث تیار کر کے آتے ہیں تو اس میں کہیں بھی آئمہ اہلبیت (علیہم السلام)کی رائے یا ان کا کوئی بیان نہیں ہوتا تو میں نے کہا یہ سوچنے کی بات ہے ،اسی طرح میں نے ایک بات اور بھی کہی کہ جب کوئی روایت یاحدیث بیان کی جاتی حضور پاک(صلّیٰ اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم) سے تو مختلف رواة سے جن میں اصحاب ہیں یا پھر تابعین ہیں لیکن اہلبیت (علیہم السلام) سے کوئی حدیث بیان نہیں کی جاتی تو کیا آئمہ اہلبیت (علیہم السلام) نے حضور پاک(صلّیٰ اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم) سے کچھ نہیں سنا فقہی حوالے سے؟ جبکہ اصحاب کو علمی فقہی حوالے سے کوئی مشکل پیش آتی تھی وہ مولاعلی (علیہ السلام)کے پاس جاکر حل کروا تے تھے اسی طرح حضرت بی بی زہرا (سلام اللّٰہ علیہا) سے جا کر ان سے مسائل پوچھتے تھے ان کے بابا کی حدیث پوچھتے تھے تو پھر ابھی ایسا کیوں نہیں ہوتا بہرحال یہ بات ہم نے اچھے انداز میں ان تک پہنچائی تو انہیں بھی محسوس ہوا کہ ایسا نہیں ہوناچاہیے۔
تصاویر از القمر ڈاٹ انفو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- its good work