اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عمر سلیمان کی موت کا اعلان آج جمعرات کو ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے کسی اسپتال میں زیر علاج تھے لیکن چونکہ اس سے قبل نہ کی بیماری کے بارے میں کچھ نہيں کیا گیا تھا اور یہ بھی اعلان نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی بیماری کی وجہ سے کسی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور دوسری جانب سے عمر سلیمان حسنی مبارک اور اسرائیل کے مابین تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم اطلاعات و معلومات کے عینی شاہد بھی تھے اور اب اقتدار سے ہمیشہ کے لئے دور کئے جاچکے تھے، چنانچہ مبصرین ان کی موت کو مشکوک قرار دیے رہے ہیں۔
عمر سلیمان قساوت قلبی اور بے رحمی کی وجہ سے حسنی مبارک کے زمانے میں "مرد آہن" سمجھے جاتے تھے۔ مصری عوام کا انقلاب کامیاب ہونے لگا تو اس شخص نے انقلابیوں کے خلاف حسنی مبارک کے 30 سالہ وحشیانہ اقدامات کی دستاویزات کو تلف کیا تا کہ حسنی مبارک کو عدالت سے موت کی سزا سنائے جانے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔
عمر سلیمان نے تین عشروں تک حسنی مبارک کے پولیس اسٹیٹ کو تقویت پہنچائی، عوام کو کچل کر رکھ دیا اور غاصب یہودی ریاست کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا یہاں تک وہ مصر میں اسرائیل کی امید سمجھے جارہے تھے جس کی بنا پر انھوں نے حالیہ صدارتی انتخابات میں نامزد ہونے کی بھی کوشش کی۔
کس کو نہیں یاد، جب 11 فروری 2011 کو مصری انقلاب کی کامیابی کے دن عمر سلیمان نے ٹیلی ویژن کے اسکرین پر ظاہر ہوکر کہا: "پیارے ہموطنو! مصر کے صدر جمہوریہ، محمد حسنی مبارک نے فیصلہ کیا کہ صدارت کے عہدے سے کنارہ کشی اختیار کریں اور انھوں نے اعلی فوجی کونسل کو ملکی انتظام و انصرام کی ذمہ داری سونپ دی ہے"۔ یہ مختصر سا بیان جو انھوں نے چھ بجے شام کو مصری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا، اہم ترین جملہ تھا جو ٹی وی چینلوں نے حسنی مبارک کے اقتدار کے آخری دن عمر سلیمان کی زبان سے نشر کیا۔
عمر سلیمان 2 جولائی 1936 کو پیدا ہوئے، تعلیم کے بعد 1954 میں فوج میں بھرتی ہوئے فوجی تربیت حاصل کی اور پھر سابق سوویٹ روس کی فرونزی ملٹری یونیورسٹی میں اعلی فوجی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ 1980 کے عشرے میں حسنی مبارک کا نائب صدر بننے کے بعد عین شمس یونیوسٹی میں سیاست میں بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ ان کے پاس ملٹری سائنسز میں ایم اے کی ڈگری بھی تھی۔
عمر سلیمان نے مسلح افواج میں ترقی کے زينے تیزی سے طے کئے اور مسلح افواج کے آپریشنز اسٹاف کی پلاننگ کے سربراہ مقرر ہوئے جس کے بعد وہ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 22 جون 1993 کو مصر کی عمومی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ مقرر کئے گئے اور 29 جنوری 2011 کو حسنی مبارک نے انقلاب کو دبانے اور انقلابیوں کو میدان سے مار بھگانے کی خاطر عمر سلیمان کو نائب صدر اول مقرر کیا۔
عمر سلیمان نے مصر کے انٹیلی جنس کے سربراہ کے عنوان سے حسنی مبارک کے حکم پر فلسطین کا کیس اپنے ہاتھ میں لیا اور یہودی ریاست کے جنگی قیدی "گلعاد شالیت" کو حماس سے رہا کروانے کے لئے سرگرم ہوئے اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے سلسلے میں اسرائیل کے قابل اعتماد شخص کے عنوان سے کردار ادا کیا نیز اسرائیل کی خواہش پر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان کئی بار مذاکرات کا اہتمام کیا۔
وہ سفارتی مشن پر سوڈان بھیج دیئے گئے اور امریکہ نے القاعدہ کے اراکین یا القاعدہ کی رکنیت کے الزام کا سامنا کرنے والے افراد کو افغانستان سے مصر بھجوادیا تو عمر سلیمان نے انہیں ٹارچر کیا اور ان سے امریکہ کی مرضی کے اعترافات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
کہا جاتا ہے مصر کے صدارتی محل کی غلام گردشوں میں کئی بار عمر سلیمان کو نائب صدر بنانے کے سلسلے میں حسنی مبارک کے فیصلے کے بارے میں چہ میگوئیاں ہوئیں جبکہ نائب صدر کا عہدہ 1981 سے خالی تھا۔ مصری اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بارہا یہ افواہ دیکھنے اور سننے کو ملی کہ عمر سلیمان حسنی مبارک کے جانشین ہیں اور جس دن حسنی مبارک اقتدار سے الگ ہونگے یا موت کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوجائیں گے تو عمر سلیمان ہی مصر کے صدر ہونگے حتی کہ ایک بظاہر عوامی گروہ نے ستمبر 2010 میں ـ جب حسنی مبارک کے لئے جانشین کے تعین کی بحث گرم تھی ـ عمر سلیمان کو صدر بنائے جانے کا مطالبہ کیا۔ تا ہم مبارک اپنے بیٹے جمال مبارک کو ترجیح دے رہے تھے اور پھر اچانک عوامی انقلاب شروع ہوا تو مبارک اقتدار کو اپنے خاندان میں ہی رکھنے کے خواب بھول گئے اور ان کے اپنے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوا تو انھوں نے عمر سلیمان کو نائب صدر بنایا (29 جنوری 2011)۔ اس سے پہلے بھی حسنی مبارک نے انہیں انقلابیوں کے ساتھ ـ آئینی اصلاحات کے موضوع پر ـ مذاکرات کے لئے انہیں اپنی مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ بہرحال حسنی مبارک کو 11 فروری کے دن اقتدار سے الگ ہونا پڑا تو نائب صدر کی حیثیت سے جو واحد مفید کام عمر سلیمان نے انجام دیا یہی تھا کہ "حسنی مبارک اقتدار سے الگ ہوگئے ہیں"؛ اور حسنی مبارک صدر نہ رہے تو ان کے نائب صدر عمر سلیمان ـ نائب صدر بننے کے صرف 13 دن بعد ـ بھی خود بخود معزول ہوگئے۔
عمر سلیمان نے حسنی مبارک کے مقدمے میں اہم کردار ادا کیا جس کو صدی کا مقدمہ کہا گیا۔ اٹارنیوں اور ججوں کا مطالبہ تھا کہ حسنی مبارک پر لگے ہوئے الزامات کے بارے میں تحقیق کے لئے عمر سلیمان کو عدالت طلب کیا جائے اور ان کی گواہی ریکارڈ کی جائے چنانچہ عمر سلیمان 13 ستمبر 2011 کو عدالت کی خفیہ کاروائی میں حاضر ہوئے جس میں صرف اٹارنی اور ججز موجود تھے جبکہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے موجود نہ تھے۔
عمر سلیمان نے شہادت دی کہ "حسنی مبارک نے افواج اور سیکورٹی فورسز کو کبھی بھی عوام اور انقلابیوں کے خلاف کاروائی کا حکم نہیں دیا تھا!"۔
انھوں نے مزید کہا: "میں وزیر داخلہ کے ساتھ صدر کے رابطے سے بے خبر ہوں؛ انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار آتشی ہتھیاروں سے لیس نہيں ہیں چنانچہ جو مظاہرین زخمی ہوئے ہیں وہ دوسری فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں"۔
واضح رہے کہ انقلاب مصر کے ایام میں فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 900 افراد شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
عمر سلیمان نے عدالت میں کہا: ملک میں بدامنی پھیل گئی تھی چنانچہ صدر حسنی مبارک سے درخواست کی گئی کہ ایک "تلاش حقیقت کمیٹی Fact Finding Committee" تشکیل دے۔ اس کمیٹی کو "انقلابیوں کے قاتلوں" کے سلسلے میں قطعی معلومات حاصل نہ ہوسکیں، کیونکہ سیکورٹی فورسز کے بعد صرف شارٹ گنز ہوتی ہیں اور انقلابیوں کو گولیاں لگی تھیں چنانچہ یہ بات حیرت انگیز تھی!!!۔
عمر سلیمان نے 6 اپریل 2012 کو صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرائے جس پر صہیونی ریاست نے جشن سرور منایا لیکن انقلابی عوام کے احتجاج پر اعلی الیکشن اسٹاف نے ان کو نااہل قرار دیا۔
امریکی چینل فاکس نیوز نے فروری 2011 میں انکشاف کیا کہ عمر سلیمان، نائب صدر بننے کے بعد ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تھے جبکہ ان کے دو محافظین اس حملے میں کام آئے تھے۔ ایک سیکورٹی ذریعے نے اس زمانے میں اس رپورٹ کی تردید کردی لیکن مصر کے سابق وزیر خارجہ "احمد ابوالغیط" نے بعد میں اس خبر کی تصدیق کی۔
عمر سلیمان کے سعودی خاندان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات تھے اور سعودی حکام حسنی مبارک کو زوال سے بچانے کے حوالے سے عمر سلیمان کو اپنا امین سمجھتے تھے اور جب حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا گیا تو انھوں نے کئی بار سعودی دارالحکومت ریاض کا دورہ کیا اور سابق ولیعہد نائف بن عبدالعزیز سے متعدد بار ملے اور یہ افواہ بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی کہ وہ نائف کے سیاسی مشیر بن گئے ہیں لیکن آل سعود نے بھی اور عمر سلیمان نے بھی اس افواہ کی تردید کردی جس کے بعد آل سعود نے ان کی تعریف و تمجید کی اور ایک بیان میں کہا کہ عمر سلیمان کی شخصیت آل سعود کے نزدیک مشیر کے عہدے سے کہیں زیادہ اہم اور قابل قدر ہے۔
عمر سلیمان نے حسنی مبارک سے متعدد فوجی تمغے اور اعزازات وصول کئے تھے لیکن آج وہ اس دنیا میں نہيں ہیں اور جہاں کو وہ چلے ہیں وہاں کردار کے تمغے زیادہ کام آتے ہیں۔
...............
/110