قمر رضوی کے قلم سے "عقل کا اندھا پن"
کوڈ: 331239 تاریخ: 2012/07/24 - 00:33مآخذ: ابنا پی آرprint

شیخ کا خواب، لکھو اور تقسیم کرو ورنہ ...
قمر رضوی کے قلم سے "عقل کا اندھا پن"

ایک پرچے پر لکھا تھا: ... عرب کے فلاں علاقے کے فلاں شیخ کو فلاں ہستی کی خواب میں زیارت ہوئی اور انہوں نے اس شیخ کو کچھ راز بتائے ہیں۔ ساتھ ہی اس شیخ کو اس خواب کا احوال دیگر لوگوں تک پہنچانے اور ان تمام "رازوں" کا ڈنکا بجانے کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے وگرنہ نہ صرف وہ شیخ، بلکہ اس دنیا کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ تحریر کے آخر میں ایک نوٹ بھی لکھا تھا جس کے مطابق اس پرچے کو تیرہ مرتبہ لکھ کر آگے تقسیم کرنے کا حکم تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی درج تھا کہ اس پرچے کو نظر انداز کرنے یا مزید تقسیم نہ کرنے والا نہ صرف جہنمی ہوگا بلکہ نہ جانے کون کون سے عذاب کا شکار ہوگا۔ ۔۔۔ 

بقلم: قمر رضوی


 قمر رضوی کے قلم سے "عقل کا اندھا پن"

طویل عرصہ پرانی بات ہے جب ایک مرتبہ میرے ہاتھ ایک پرچہ لگا جس پر کسی معصوم ہستی سے متعلق کچھ باتیں درج تھیں کہ عرب کے فلاں علاقے کے فلاں شیخ کو فلاں ہستی کی خواب میں زیارت ہوئی اور انہوں  نے اس شیخ کو کچھ راز بتائے ہیں۔ ساتھ ہی اس شیخ کو  اس خواب کا احوال دیگر لوگوں تک پہنچانے اور ان تمام "رازوں" کا ڈنکا بجانے کی ذمہ داری  بھی سونپ دی ہے وگرنہ نہ صرف وہ شیخ، بلکہ اس دنیا کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ تحریر کے آخر میں ایک نوٹ بھی لکھا تھا جس کے مطابق اس پرچے کو تیرہ مرتبہ لکھ کر آگے تقسیم کرنے کا حکم تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی درج تھا کہ اس پرچے کو نظر انداز کرنے یا مزید تقسیم نہ کرنے والا نہ صرف جہنمی ہوگا بلکہ نہ جانے کون کون سے عذاب کا شکار ہوگا۔ ۔۔۔   بڑا مشکل وقت تھا جب جاہل لوگ ایک پورا پرچہ تیرہ تیرہ مرتبہ لکھ کر نہ جانے کتنے گھنٹے ضائع کیا کرتے تھے۔
وقت کچھ اور آگے بڑھا تو لوگوں کی مشکل کچھ کم ہوئی اور اب لکھنے کی بجائے فوٹو کاپی کروا کر بانٹنے کی سہولت مہیا کردی گئی۔  مگر اسکے ثواب اور عقاب میں کوئی فرق نہ آیا۔
اس قسم کی بے تکی، بے معنی، لغو اور بے بنیاد کہانیوں کو "معجزہ" کا نام دیا جاتا رہا اور عاقبت نا اندیش و جاہل افراد ان من گھڑت کہانیوں میں رسالتمآب (ص)، بی بی سیدہ زہراء (س)، امام علی (ع) اور بی بی زینب (س) کی پاکیزہ و بالا ذواتِ مقدسہ کو شعبدے کا مرکز بنا کر نہ صرف خود گناہِ کبیرہ اور غضبِ الٰہی کے مرتکب ہوتے رہے، بلکہ اپنے ساتھ ساتھ ہزاروں بلکہ لاکھوں کم علم و کم عقل لوگوں کی عقیدت کا بھی مذاق اڑاتے رہے۔ افسوس ان عقل کے اندھوں پر بھی ہوتا ہے جو بہت آسانی کے ساتھ اس شعبدہ بازی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں اور یقینِ قلبی کے ساتھ ان تمام احکامات کی بجاآوری بھی کرتے ہیں جو کسی بازیگر کی خودساختہ ایجادات ہوتی ہیں اور اصلاً ان کا دین، شریعت اور عقیدت سے سات سمندر پار کا بھی ساتھ نہیں ہوتا۔
اگر خدا کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت "عقل" کا استعمال کرتے ہوئے ذرا سا غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں نظر آتی ہے کہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں خدا نے اپنی صفات کا مظہر بناکر دنیا میں بھیجا اور ان سے ایسے ایسے کام لئے جو کسی اور کے بس کے نہ تھے۔ ان برگزیدہ ہستیوں نے بھی خدا کے تمام احکامات کچھ اس انداز میں ادا کئے کہ اس نے  انہیں موجودہ اور آئندہ جہانوں کا مختار بنادیا۔ اب یہ چاہیں تو چاند کو دوٹکڑے بھی کرسکتے ہیں اور سورج  (جس پر کئی وسیع و عریض کائناتوں کا دارومدار ہے) کو حکم دیں اور وہ کسی کو بتائے بنا خاموشی سے نہ پلٹے۔۔۔ ایسا ممکن نہیں۔ قالین پر بنی تصویر کو اصلی شیر میں ڈھلنے کا حکم صادر فرمائیں تو ایک دقیقہ نہیں لگتا اور وہ شیر اپنا کام ایک غلام کی مانند کرکے واپس چلتا بنتا ہے۔  نیشاپور کے بےآ ب و گیاہ صحرا میں ایک پتھر کو حکم دیں تو وہ تا قیامت پانی اگلتا رہے گا۔ زمین کے کسی کونے میں  کوئی بشر یا افلاک کی کسی وسعت میں مشکل کا شکار کوئی ملک ان کو مشکل کشائی کے لئے پکارے تو اب ان کی مرضی کہ خواب میں آکر اس کی مشکل حل کریں یا جیتی جاگتی صورت میں اسے پرِ پرواز عطا کردیں۔ یہ وہ کریم ہستیاں ہیں جو ایک انسان کو اتنی رفعت عطا کرتی ہیں کہ دنیا تو دور کی بات، جنت تک کو اس کی جائیداد قراردے دیتی ہیں۔ کیا کسی ذی شعور انسان اور ان کے عشق کے دعویدار کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ان مالک و مختار ہستیوں سے یہ امید رکھے کہ وہ کسی دور پار کے علاقے کے کسی غیر معروف شخص کے خواب میں آکر اس محتاج کے آگے ہاتھ پھیلائیں کہ ہم تمہارا کام تو کررہے ہیں لیکن جواب میں تم  ہماری تشہیر کرو اور جو ایسا نہ کرے اسے جہنم میں جھونک دو!!! استغفراللہ۔
ایک اور چیز جو کج فہم اور کمزور ایمان والے حضرات کی توجہات کا محور رہتی ہے، وہ ہیں کچھ خاکے جن پر کچھ خاص شکلیں کچھ خاص زاویوں سے کچھ مزید خاص بن کر ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور وہ ان خاکوں کو دوسروں تک پہنچا کر نہ صرف خود خاص ہوجاتے ہیں بلکہ ایمان کے زینے کی کئی سیڑھیاں اکٹھی پھلانگ کر سیدھا حوضِ کوثر پر جاکر دم لیتے ہیں۔ ایسے ہی کسی خاکے میں کسی مچھلی کے جسم پر موجود نقش و نگار کلمۂ طیبہ کی صورت میں نظر آتے ہیں تو کبھی کسی جنگل میں کوئی درخت کسی انسان کی مانند رکوع کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کبھی کہیں کوئی کٹا ہوا ٹماٹر اپنے اندر نامِ محمد (ص) لکھے ہوئے ہوتا ہے تو کبھی کسی جلی ہوئی روٹی پر پوری پوری آیتیں لکھی نظر آتی ہیں۔ کہیں کسی بزرگ کی قبر کو قبرِ مصطفیٰ (ص) کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تو کبھی کسی گمنام جنگجو کی تلوار کو الذوالفقار بنا دیا جاتا ہے۔ کبھی کسی کو چاند میں امامِ عصر (ع) کی شبیہ نظر آتی ہے تو کوئی اسکی زمین پر نامِ علی (ع) کندہ دیکھتا ہے۔ 
جبکہ دینِ مصطفیٰ (ص) خالصتاً علم اور عقل کی بنیادوں پر استوار ہے جس کا ایک ایک انگ اور ایک ایک زاویہ مکمل طور پر منطقی اور سائنسی حقائق پر مشتمل اور قابلِ پڑتال ہے۔  کمال کی بات ہے کہ دعویٰ ایمان کا اور افکار کفریہ! حیرت کا مقام ہے کہ ایک مچھلی کی کھال پر کلمۂ طیبہ کو ایک "معجزہ" کی صورت میں دیکھنے والے شخص کو اپنی وہ آنکھ ایک "معجزہ" دکھائی نہیں دیتی جس سے وہ یہ "معجزہ" دیکھ رہا ہے؟ کیا انسان کا اپنا وجود اور وہ مچھلی خود ایک "معجزہ" نہیں جس کے اپنے وجود کے اندر گنتی کے اعداد سے بھی کہیں زیادہ  عناصر انتہائی منظم انداز میں اپنا اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں؟ جو خدائے صناع کھربوں رنگوں  کے چھینٹوں سے ایک مچھلی کی جلد کو پینٹ کرسکتا ہے، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں  کہ اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے ہر مچھلی، چرند اور پرند کے جسم پر جلی، واضح اور رنگین حروف میں کلمۂ طیبہ یا کوئی اور آیت لکھ دے؟
خدا نے افریقہ کے کسی دورافتادہ جنگل میں صرف ایک درخت کو ہی کیوں رکوع کروایا؟ کیا وہ کائنات کے ہر درخت کو اپنے حضور جھکانے کی طاقت نہیں رکھتا؟
جبکہ قرآن کی رو سے کائنات کا ذرہ ذرہ اس معبودِ برحق کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہے۔
خدا نے حدیثِ کساء میں جبریل علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا  کہ میں نے اس زمین و آسمان، چاند و سورج، ستارے و اقیانوس کو فقط ان پانچ (محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام) لوگوں کیلئے اور ان کی محبت میں خلق کیا ہے۔
کیا خدا کو پنج تن میں  صرف امام علی (ع) سے اتنی محبت ہے کہ وہ صرف ان کا نام چاند پر کندہ کردے؟ اور وہ بھی اس انداز میں کہ صرف چند افراد کو ہی "علی" لکھا نظر آئے۔  "علی" کے مقام کو ثابت کرنے کے لئے کیا خدا پر کوئی پابندی عائد ہے جو وہ آپ کا اسمِ گرامی خوبصورت رسم الخط میں رنگوں کی کہکشاں کے ساتھ نہیں لکھ سکتا؟ اور وہ  نعوذ باللہ مجبور ہے کہ مخفی صورت میں بگاڑ کر اپنے محبوب کا نام چاند پر اس طرح لکھے کہ "علی"کے محض چند عاشق ہی اس کو دیکھ پائیں، باقی کی خدائی اس نعمت سے محروم رہے!!!
جبکہ اہلِ دل اور حقیقی عاشقانِ علی چاند تو کیا، کائنات کے ذرے ذرے پر درج "علی" کا نام دیکھ کر انبساط سے جھومتے ہیں۔
اہلِ عقل کے دماغوں میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی وہ حجت، جسے وہ اپنے ارادے  اور مصلحت کے تحت وقتِ معین تک کے لئے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کردے اور وہی امام نعوذ باللہ خدا کو غچہ دے کر چاند پر جلوہ گر ہوکر اپنے عشاق کو اپنی زیارت کروادے؟ کیا واقعی ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں جو اپنے امام (ع) سے خدا کی مخالفت کی نہ صرف توقع رکھتے ہیں بلکہ اسے اپنے رب کی منشاء کے برخلاف کام کرتے ہوئے  دیکھ کر سبحان اللہ کے نعرے بھی  بلند کرتے ہیں!!!  کیا یہ لوگ اس وقت کا انتظار نہیں کرسکتے جب حجتِ خدا کا رخِ انور تمام جہانوں کے لئے آشکار ہوگا اور حقیقی عاشقان اپنے قرۃ العین امام کی زیارت سے اپنے قلوب کی گہرائیوں تک ٹھنڈک محسوس کریں گے؟؟؟
آج جبکہ اکیسویں صدی اپنے عروج کی جانب گامزن ہے اور انسانی معاشروں اور رویوں نے نئی نئی جہات اپنانا شروع کردی ہیں، وہیں ترقی کی گاڑی اپنا سفر طے کرتے کرتے کاغذ، قلم اور فوٹو کاپی کے دور سے نکل کر کمپیوٹر، ای میل، ایس ایم ایس، پیپر فری کمیونی کیشن اور سوشل میڈیا کی منزلوں تک پہنچ گئی ہے۔ افسوس  کا مقام ہے کہ معاشرتی ترقی سائنسی اسالیب کو اپناتے ہوئے تو اپنا سفر طے کررہی ہے لیکن روحانی بالیدگی ابھی شاید شروع بھی نہ ہوسکی اور اس سائنسی دور میں بھی ہمارے جہل کا یہ عالم ہے کہ ہمارے میل  اور میسج باکسز اور سوشل میڈیا کے صفحات پر اکثر یہی من گھڑت کہانیاں پوری مذہبی عقیدت اور فرضِ شرعی کے اصولوں کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ شئیر ہوکرجنت بانٹتی پھر رہی ہیں۔ اورعقل کا اندھا پن ہے کہ اجالا دیکھ ہی نہیں پا رہا!!!

........

/110

 



صارفین کی رائے

- Mashallah please keep it up


- Excellent article Sir


- Dear Mr. Qamar Rizvi

this is the thing we've to point out within the shiat' community. i like your work and pray to Allah Almighty That Be-Haq E Masoomin (a) ap k is kaam ko qabool farmaey. .



ایمیل:
نام:
پیغام:
سیکورٹی کوڈ
erfan
ABNA World Service
Englishالعربية
Françaisاردو
Españolفارسی
Русский中文
DeutschTürkçe
Azeri (cyr) Azeri (ltin)
Melayu Indonesia
বাংলা हिन्दी
Swahili Myanmar
BosanskiABP sites
  تازہ ترین عناوین